انگلیوں کا سہارہ


عام طورپر انسان کے ہاتھوں اور پاوں کی کل  ملاکر بیس انگلیاں ہوتی ہیں۔لیکن اللہ پاک کی قادرالمطلق ذات چاہے تو کسی کو کم یا زیادہ بھی دیتی ہے۔ہاتھ اور پاوں کی چار چار مونث جبکہ ایک ایک مذکر یعنی انگوٹھا ہوتا ہے۔جوکہ فربہ تو ہے لیکن اپنی ساتھیوں سے عموما چھوٹا ہی ہوتا ہے۔یہ تو تمہید تھی۔ورنہ میرا موضوع انگلیوں کی تعداد یا تذکیر و تانیث نہیں بلکہ اہل زبان نے اپنی بات سمجھانے کے لیے انگلیوں کا کتنا زیادہ استعمال (محاورة)کیا ہے۔اس پر کچھ لکھنے کو دل کررہاہے۔
  اگر دو یا زیادہ لوگوں کے درمیان فرق ظاہر کرنا ہو تو انگلیوں کی مثال دیکر سمجھایا جاتا ہے۔ سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلنے کی صورت میں انگلی ٹیڑھی کرنے کا تیربہ ہدف نسخہ بھی بتایا گیا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ *ہم نے جب بھی اس مشورے پر عمل کرنے کی کوشش کی اپنی ہی انگلیاں زخمی کربیٹھے۔* حیرت کے اظہار کے لیے دانتوں سے انگلیوں کی درگت بنانا پڑتی ہے۔اسی طرح کسی کے پکائے ہوئے کھانے کی تعریف کرنا مقصود ہو تو بعض لوگ فعلا اور بعض قولا انگلیاں چباکر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔کسی انسان کو نچانے کے لیے بھی انگلیوں کا سہارہ لیا جاتا ہے۔ کسی کی خوش قسمتی کااظہار کرنے کے لیے اس کی پانچوں انگلیاں گھی میں ڈالی جاتی ہیں اور بعض حاسدین اس پر بھی بس نہیں کرتے *اس کا سر بھی کڑاہی میں ڈالنا اپنے اوپر واجب کرلیتے ہیں۔*
کسی کو لڑائی جھگڑے یا منفی سرگرمیوں کے لیے اکسانے یا پھر غصہ دلانے کے لیےبھی اہل زبان نے انگلی ہی کا محاوراتی استعمال کیا ہے لیکن ناشائستہ انداز میں۔اسی طرح کسی پر الزام تراشی کے لیے بھی انگلی سے ہی کام لیا جاتا ہے۔
اشاروں کی زبان میں بھی انگلی کا کلیدی کردار ہے۔گونگے بہروں کی زبان کی پوری حروف تہجی ہی انگلیوں پر مشتمل ہے کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
کرکٹ میں ایمپائر کی انگلی کا اشارہ ایک طرف خوشی کے شادیانے تو دوسری طرف صف ماتم بچھادیتا ہے۔اپنی جیت کا اظہار کرنے کے لیے بھی انگلیوں سے ہی وکٹری کا نشان بنایا جاتا ہے۔
فنگر پرنٹس(نشانات انگشت) کے ماہرین کے مطابق دنیا کے کسی انسان کے نشانات انگشت دوسرے انسان کے نشانات انگشت سے نہیں مل سکتے ۔یہی وجہ ہے کہ تصدیق اور شناخت کے لیے نشانات انگشت لگائے جاتے ہیں۔اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریع فنگر پرنٹس کی فوری تصدیق بھی ہوجاتی ہے۔
 پہلے انگلیوں کے ذریعے سے قلم پکڑ کر لکھاجاتا تھا۔اب براہ راست انگلیوں سے قلم کا کام لیا جاتا ہے۔ یعنی انگلیوں سے کی پیڈ کے مختلف حروف دباکر لکھا جاتاہے۔ ہمیں کی پیڈ پرانگلیوں کا بہتر استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر یا جدید ٹیکنالوجی کی دیگر اقسام پر اپنے اور دوسروں کے لیے مفید کام کرنا چاہیے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کلین پاکستان اور ہمارا معاشرہ

اپنی زندگی خود جئیں۔

خوداعتمادی .