کلین پاکستان اور ہمارا معاشرہ
کچھ عرصہ قبل ہمارے وزیراعظم صاحب دستانے پہنے ہاتھوں سے ایک ایسی سڑک پر جھاڑو بیٹ کے انداز میں پکڑکر کلین پاکستان مہم کا آغاز کرتےہوئے نظر آئے جس پر شاید خوردبین کی مدد سے بھی کچرہ نظر نہ آئے۔ وزیراعظم صاحب نے صفائی مہم کا آغاز کیاکیا اچھے بھلے لوگ جو ایک قدم بھی زمین پر رکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ملک بھر کی گلی کوچوں میں فوٹوسیشن کی حد تک ہی سہی دوگز لمبا جھاڑواپنے نرم ونازک ہاتھوں میں تھامے خاکروبوں کے شانہ بشانہ صفائی کرتے ہوئے نظر آئےکہ خاکروبوں کو بھی پہلی بار اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوا اور وہ اپنی قسمت پر ناز کرنے لگے۔ ہم نے سوچا شاید اب ہمارے کپتان پاکستان سے گندگی کوبالکل اسی طرح کلین بولڈ کریں گے جس طرح وہ مخالف بیٹسمین کو آوٹ کرتے تھے۔لیکن یہ محض ہماری خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔یہ مہم چندروز کے بعد اپنے اختتام کو پہنچی اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر دوبارہ سرابھارنے لگے اور کھلا چیلنج کرنے لگے کہ روک سکتے ہو تو روک لو۔ہم لوگوں نے ایک عجیب و غریب طریقہ اپنایا ہوا ہے۔وہ کام جو روزانہ اور مستقل مزاجی سے کرنے ہوتے ہیں لیکن ہم ان کوانجام دینےکے لیے خاص مواقع مقرر کئے ہوئے ہیں ۔...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں