کلین پاکستان اور ہمارا معاشرہ
کچھ عرصہ قبل ہمارے وزیراعظم صاحب دستانے پہنے ہاتھوں سے ایک ایسی سڑک پر جھاڑو بیٹ کے انداز میں پکڑکر کلین پاکستان مہم کا آغاز کرتےہوئے نظر آئے جس پر شاید خوردبین کی مدد سے بھی کچرہ نظر نہ آئے۔ وزیراعظم صاحب نے صفائی مہم کا آغاز کیاکیا اچھے بھلے لوگ جو ایک قدم بھی زمین پر رکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ملک بھر کی گلی کوچوں میں فوٹوسیشن کی حد تک ہی سہی دوگز لمبا جھاڑواپنے نرم ونازک ہاتھوں میں تھامے خاکروبوں کے شانہ بشانہ صفائی کرتے ہوئے نظر آئےکہ خاکروبوں کو بھی پہلی بار اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوا اور وہ اپنی قسمت پر ناز کرنے لگے۔ ہم نے سوچا شاید اب ہمارے کپتان پاکستان سے گندگی کوبالکل اسی طرح کلین بولڈ کریں گے جس طرح وہ مخالف بیٹسمین کو آوٹ کرتے تھے۔لیکن یہ محض ہماری خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔یہ مہم چندروز کے بعد اپنے اختتام کو پہنچی اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر دوبارہ سرابھارنے لگے اور کھلا چیلنج کرنے لگے کہ روک سکتے ہو تو روک لو۔ہم لوگوں نے ایک عجیب و غریب طریقہ اپنایا ہوا ہے۔وہ کام جو روزانہ اور مستقل مزاجی سے کرنے ہوتے ہیں لیکن ہم ان کوانجام دینےکے لیے خاص مواقع مقرر کئے ہوئے ہیں ۔ان مواقعوں پر تو ایک طوفان سا کھڑا ہوجاتا ہے اور ہرکوئی ایک دوسرے سے سبقت لےجانے کی تگ ودو میں لگا رہتا ہے ۔زیادہ تر تو اس دوران بھی صرف فوٹو سیشن کی حد تک ہی سرگرم رہتے ہیں۔بدقسمتی سے ہماری حکومت اور ادارے اس رویے کی آبیاری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کبھی صفائی مہم کے سلسلہ میں کبھی تعلیمی ایمرجنسی کے نام سے توکبھی کسی اورعنوان سے ایک بھونچال سا آجاتاہے اور پھر یہ آیاہوا بھونچال کچھ عرصہ کے بعدجھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔حالانکہ ہمارے معاشرے کو جھاگ کی نہیں بلکہ جاگ(بیداری)کی ضرورت ہےاور بیداری اس طرح کے ٹوٹکوں سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور منصوبہ بندی سے آتی ہے۔حکومت اور اداروں کی سطح پرتو ہم کردار ادا کرنےسے رہے لیکن جہاں پر ہمارا اثرورسوخ ہے وھاں بہتری کی سعی ضرور کرنی چاہیے۔اگر اتنی بھی استطاعت نہیں ہے تو اپنی ذات کی حد تک بہتررویہ اپنانےکا سفر جاری رکھنا چاہیے۔
بقول شاعرمشرق
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
بقول شاعرمشرق
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں