اشاعتیں

مارچ, 2019 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

آہ وہ مسکراتا چہرہ

میں ویگن پر حب سے بیلہ جارہا تھا۔ویگن نے جب اوتھل میں اسٹاپ کیا تو ایک وجہیہ دراز قد شخص گاڑی کے انتظار میں کھڑا تھا۔جو سفید کپڑے اور سیاہ واسکٹ پہنے ہوئے تھا۔اس کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں سے ذہانت ٹپکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔گاڑی میں نظر ڈالتے ہوئے اس نے کنڈیکٹر سے پوچھا سیٹ ملے گی؟ کنڈیکٹر نے کہا سر ڈنڈا سیٹ خالی ہے۔اسی دوران گاڑی میں موجود اس کے ایک  شاگرد نے کہا ،سر آپ میری سیٹ پر بیٹھیں ڈنڈا سیٹ پر میں بیٹھتاہوں۔لیکن اس نے  اپنے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا نہیں یار میں ڈنڈا سیٹ کا عادی ہوں کیونکہ ہم اوتھل سے سوار ہونے والوں کے نصیب میں ڈنڈا سیٹ ہی ہوتی ہے۔ویسے بھی بیلہ کونسا دور ہے۔ آدھا گھنٹے کی تو مسافت ہے۔جب وہ گاڑی میں بیٹھنے لگے تو بڑی تکلیف سے بیٹھے کیونکہ ایک تو وہ کافی دراز قد تھے دوسرے ڈنڈا سیٹ نہایت تنگ اورتکلیف دہ ہوتی ہے۔جب سفر شروع ہوا تو پتہ نہیں چلا کہ بیلہ کیسے پہنچا۔ کیونکہ موصوف کافی دلچسپ انسان تھے اور مختلف موضوعات پر دوران سفر گفتگو کرتے رہے۔ آج جب مجھے سوشل میڈیا پر ماسٹر احمد خان ہمدم صاحب کی وفات کا علم ہوا تو وہ سفرمیری یاداشت کے پردہ ا...

کلین پاکستان اور ہمارا معاشرہ

کچھ عرصہ قبل ہمارے وزیراعظم صاحب دستانے پہنے ہاتھوں سے ایک ایسی سڑک پر جھاڑو بیٹ کے انداز میں پکڑکر کلین پاکستان مہم کا آغاز کرتےہوئے نظر آئے جس پر شاید خوردبین کی مدد سے بھی کچرہ نظر نہ آئے۔ وزیراعظم صاحب نے صفائی مہم کا آغاز کیاکیا اچھے بھلے لوگ جو ایک قدم بھی زمین پر رکھنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ملک بھر کی گلی کوچوں میں فوٹوسیشن کی حد تک ہی سہی دوگز لمبا جھاڑواپنے نرم ونازک ہاتھوں میں تھامے خاکروبوں کے شانہ بشانہ صفائی کرتے ہوئے نظر آئےکہ خاکروبوں کو بھی پہلی بار اپنے پیشے کی عظمت کا احساس ہوا اور وہ اپنی قسمت پر ناز کرنے لگے۔ ہم نے سوچا شاید اب ہمارے کپتان پاکستان سے گندگی کوبالکل اسی طرح کلین بولڈ کریں گے جس طرح وہ مخالف بیٹسمین کو آوٹ کرتے تھے۔لیکن یہ محض ہماری خام خیالی ہی ثابت ہوئی۔یہ مہم چندروز کے بعد اپنے اختتام کو پہنچی اور جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر دوبارہ سرابھارنے لگے اور کھلا چیلنج کرنے لگے کہ روک سکتے ہو تو روک لو۔ہم لوگوں نے ایک عجیب و غریب طریقہ اپنایا ہوا ہے۔وہ کام جو روزانہ اور مستقل مزاجی سے کرنے ہوتے ہیں لیکن ہم ان کوانجام دینےکے لیے خاص مواقع مقرر کئے ہوئے ہیں ۔...

انگلیوں کا سہارہ

عام طورپر انسان کے ہاتھوں اور پاوں کی کل  ملاکر بیس انگلیاں ہوتی ہیں۔لیکن اللہ پاک کی قادرالمطلق ذات چاہے تو کسی کو کم یا زیادہ بھی دیتی ہے۔ہاتھ اور پاوں کی چار چار مونث جبکہ ایک ایک مذکر یعنی انگوٹھا ہوتا ہے۔جوکہ فربہ تو ہے لیکن اپنی ساتھیوں سے عموما چھوٹا ہی ہوتا ہے۔یہ تو تمہید تھی۔ورنہ میرا موضوع انگلیوں کی تعداد یا تذکیر و تانیث نہیں بلکہ اہل زبان نے اپنی بات سمجھانے کے لیے انگلیوں کا کتنا زیادہ استعمال (محاورة)کیا ہے۔اس پر کچھ لکھنے کو دل کررہاہے۔   اگر دو یا زیادہ لوگوں کے درمیان فرق ظاہر کرنا ہو تو انگلیوں کی مثال دیکر سمجھایا جاتا ہے۔ سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلنے کی صورت میں انگلی ٹیڑھی کرنے کا تیربہ ہدف نسخہ بھی بتایا گیا ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ *ہم نے جب بھی اس مشورے پر عمل کرنے کی کوشش کی اپنی ہی انگلیاں زخمی کربیٹھے۔* حیرت کے اظہار کے لیے دانتوں سے انگلیوں کی درگت بنانا پڑتی ہے۔اسی طرح کسی کے پکائے ہوئے کھانے کی تعریف کرنا مقصود ہو تو بعض لوگ فعلا اور بعض قولا انگلیاں چباکر اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔کسی انسان کو نچانے کے لیے بھی انگلیوں کا سہارہ لیا جاتا ہے۔...